Chapter No 12-پارہ نمبر    ‹             Hud-11 سورت ھود         ›Ayah No-68 ایت نمبر
| كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ |
| آسان اُردو | جیسے کہ کبھی وہ اُن (گھروں )میں رہے ہی نہ ہوں کیا نہیں بے شک! ثمود (قبیلے)نے اپنے رب سے کفر (انکار) کیا کیا نہیں بے شک ثمود کے لیے دفعہ دوری(یعنی تباہی بربادی)! |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | جیسے کبھی وہاں بسے ہی نہ تھے۔ یاد رکھو کہ ثمود نے اپنے رب کے ساتھ کفر کا معاملہ کیا تھا، یاد رکھو کہ بربادی ثمود ہی کی ہوئی۔ |
| ابو الاعلی مودودی | کہ گویا وہ وہاں کبھی بسے ہی نہ تھے سنو! ثمود نے اپنے رب سے کفر کیا سنو! دور پھینک دیے گئے ثمود! |
| احمد رضا خان | گویا کبھی یہاں بسے ہی نہ تھے، سن لو! بیشک ثمود اپنے رب سے منکر ہوئے ارے لعنت ہو ثمود پر، |
| احمد علی | گویا کہ کبھی وہاں رہے ہی نہ تھے خبردار ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا تھا خبردار ثمود پر پھٹکار ہے |
| فتح جالندھری | گویا کبھی ان میں بسے ہی نہ تھے۔ سن رکھو کہ ثمود نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ اور سن رکھو ثمود پر پھٹکار ہے |
| طاہر القادری | گویا وہ کبھی ان میں بسے ہی نہ تھے، یاد رکھو! (قومِ) ثمود نے اپنے رب سے کفر کیا تھا۔ خبردار! (قومِ) ثمود کے لئے (رحمت سے) دوری ہے، |
| علامہ جوادی | جیسے کبھی یہاں بسے ہی نہیں تھے -آگاہ ہوجاؤ کہ ثمود نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے اور ہوشیار ہوجاؤ کہ ثمود کے لئے ہلاکت ہی ہلاکت ہے |
| ایم جوناگڑھی | ایسے کہ گویا وه وہاں کبھی آباد ہی نہ تھے، آگاه رہو کہ قوم ﺛمود نے اپنے رب سے کفر کیا۔ سن لو! ان ﺛمودیوں پر پھٹکار ہے |
| حسین نجفی | کہ گویا وہ کبھی ان گھروں میں بسے ہی نہ تھے آگاہ ہو جاؤ قومِ ثمود(ع) نے اپنے پروردگار کا انکار کیا آگاہ ہو کہ ہلاکت و بربادی ہے قوم ثمود کے لئے۔ |
| M.Daryabadi: | As though they had never lived at ease therein. Lo! verily Thamud disbelieved in their Lord. Lo! away with Thamud. |
| M.M.Pickthall: | As though they had not dwelt there. Lo! Thamud disbelieved in their Lord. A far removal for Thamud! |
| Saheeh International: | As if they had never prospered therein. Unquestionably, Thamud denied their Lord; then, away with Thamud. |
| Shakir: | As though they had never dwelt in them; now surely did Samood disbelieve in their Lord; now surely, away with Samood. |
| Yusuf Ali: | As if they had never dwelt and flourished there. Ah! Behold! for the Thamud rejected their Lord and Cherisher! Ah! Behold! removed (from sight) were the Thamud! |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
تاریخی ایت ہے
صالح ؑ اور قوم ثمود