اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 11-پارہ نمبر                    Jonah-10 سورت یونس               Ayah No-76 ایت نمبر

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ
آسان اُردو پھرجب اُن(یعنی فرعون کی قوم) کے پاس ہماری طرف سے سچائی آئی( تو )اُنہوں نے کہا: بے شک یہ تو واقعی واضح جادو ہے
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی چنانچہ جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق کا پیغام آیا تو وہ کہنے لگے کہ ضرور یہ کھلا ہوا جادو ہے۔
ابو الاعلی مودودی پس جب ہمارے پاس سے حق ان کے سامنے آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو کھلا جادو ہے
احمد رضا خان تو جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا بولے یہ تو ضرور کھلا جادو ہے،
احمد علی پھر جب انہیں ہمارے ہاں سے سچی بات پہنچی کہنے لگے یہ تو کھلا جادو ہے
فتح جالندھری تو جب ان کے پاس ہمارے ہاں سے حق آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے
طاہر القادری پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا (تو) کہنے لگے: بیشک یہ تو کھلا جادو ہے،
علامہ جوادی پھر جب موسٰی ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر آئے تو انہوں نے کہا کہ یہ توکھلا ہوا جادو ہے
ایم جوناگڑھی پھر جب ان کو ہمارے پاس سے صحیح دلیل پہنچی تو وه لوگ کہنے لگے کہ یقیناً یہ صریح جادو ہے
حسین نجفی اور جب ہماری طرف سے ان کے پاس حق آیا (اور حقیقت واضح ہوگئی) تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔
=========================================
M.Daryabadi: Then when there came unto them the truth from Us, they said: verily this is magic manifest.
M.M.Pickthall: And when the Truth from Our presence came unto them, they said: Lo! this is mere magic.
Saheeh International: So when there came to them the truth from Us, they said, "Indeed, this is obvious magic."
Shakir: So when the truth came to them from Us they said: This is most surely clear enchantment!
Yusuf Ali: When the Truth did come to them from Us, they said: "This is indeed evident sorcery!"
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
موسی ؑ اور ہارون ؑ کے بارے میں