Chapter No 11-پارہ نمبر    ‹                 Jonah-10 سورت یونس               ›Ayah No-54 ایت نمبر
| وَلَوۡ اَنَّ لِكُلِّ نَفۡسٍ ظَلَمَتۡ مَا فِى الۡاَرۡضِ لَافۡتَدَتۡ بِهٖؕ وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الۡعَذَابَۚ وَقُضِىَ بَيۡنَهُمۡ بِالۡقِسۡطِ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ |
| آسان اُردو | اور اگر ہر ظالم (نافرمانبردار) نفس(انسان) کے لیے ہو جو دنیا میں (ہر چیز)ہے تو وہ اس سے فدیہ دے گا(تاکہ کسی چیز کو بھی دے کراُس کی جان عذاب سے بچ جائے)؛ اور وہ (نافرمانبردار)جب عذاب دیکھیں گے ،تو ندامت(پریشانی) کو چھپائیں گے اور اُن کے درمیان انصاف سے فیصلہ ہو گا اوروہ ناانصافی نہیں پائیں گے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اور جس جس شخص نے ظلم کا ارتکاب کیا ہے، اگر اس کے پاس روئے زمین کی ساری دولت بھی ہوگی تو وہ اپنی جان چھڑانے کے لیے اس کی پیشکش کردے گا، اور جب وہ عذاب کو آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو اپنی شرمندگی کو چھپانا چاہیں گے، اور ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ ہوگا، اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔ |
| ابو الاعلی مودودی | اگر ہر اُس شخص کے پاس جس نے ظلم کیا ہے، رُوئے زمین کی دولت بھی ہو تو اُس عذاب سے بچنے کے لیے وہ اسے فدیہ میں دینے پر آمادہ ہو جائے گا جب یہ لوگ اس عذاب کو دیکھ لیں گے تو دل ہی دل میں پچھتائیں گے مگر ان کے درمیان پُورے انصاف سے فیصلہ کیا جائے گا کوئی ظلم ان پر نہ ہو گا |
| احمد رضا خان | اور اگر ہر ظالم جان، زمین میں جو کچھ ہے سب کی مالک ہوتی، ضرور اپنی جان چھڑانے میں دیتی اور دل میں چپکے چپکے پشیمان ہوئے جب عذاب دیکھا اور ان میں انصاف سے فیصلہ کردیا گیا اور ان پر ظلم نہ ہوگا، |
| احمد علی | اور اگر ہر ایک نافرمان کے پاس روئے زمین کی تمام چیزیں ہوں البتہ اپنے بدلے میں دے ڈالے اور جب وہ عذاب دیکھیں گے تو دل میں نادم ہوں گے اور ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ ہوگا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا |
| فتح جالندھری | اور اگر ہر ایک نافرمان شخص کے پاس روئے زمین کی تمام چیزیں ہوں تو (عذاب سے بچنے کے) بدلے میں (سب) دے ڈالے اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو (پچھتائیں گے اور) ندامت کو چھپائیں گے۔ اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور (کسی طرح کا) ان پر ظلم نہیں ہوگا |
| طاہر القادری | اگر ہر ظالم شخص کی ملکیت میں وہ (ساری دولت) ہو جو زمین میں ہے تو وہ یقیناً اسے (اپنی جان چھڑانے کے لئے) عذاب کے بدلہ میں دے ڈالے، اور (ایسے لوگ) جب عذاب کو دیکھیں گے تو اپنی ندامت چھپائے پھریں گے اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں ہوگا، |
| علامہ جوادی | اگر ہر ظلم کرنے والے نفس کو ساری زمین کے خزینے مل جائیں تو وہ اس دن کے عذاب کے بدلے دے دیگا اور عذاب کے دیکھنے کے بعد اندر اندر نادم بھی ہوگا .... لیکن ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر کسی طرح کا ظلم نہ کیا جائے گا |
| ایم جوناگڑھی | اور اگر ہر جان، جس نے ﻇلم (شرک) کیا ہے، کے پاس اتنا ہو کہ ساری زمین بھر جائے تب بھی اس کو دے کر اپنی جان بچانے لگے اور جب عذاب کو دیکھیں گے تو پشیمانی کو پوشیده رکھیں گے۔ اور ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ ہوگا۔ اور ان پر ﻇلم نہ ہوگا |
| حسین نجفی | جو کچھ روئے زمین پر موجود ہے اگر وہ ہر ظالم شخص کے قبضہ میں آجائے تو (وہ عذاب اس قدر سخت ہے) کہ وہ یہ سب کچھ بطور فدیہ دے دے۔ جب یہ لوگ عذابِ الٰہی کو دیکھیں گے تو ندامت و پشیمانی کو دل میں چھپائیں گے (اور اندر ہی اندر پچھتائیں گے) لیکن پورے انصاف کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ |
| M.Daryabadi: | And if every one that hath wronged had all that is in the earth, surely he would ransom himself therewith. And they shall conceal remorse when they behold the torment, and the matter will be decreed between them in equity, and they shall not be wronged. |
| M.M.Pickthall: | And if each soul that doeth wrong had all that is in the earth it would seek to ransom itself therewith; and they will feel remorse within them, when they see the doom. But it hath been judged between them fairly and they are not wronged. |
| Saheeh International: | And if each soul that wronged had everything on earth, it would offer it in ransom. And they will confide regret when they see the punishment; and they will be judged in justice, and they will not be wronged |
| Shakir: | And if every soul that has done injustice had all that is in the earth, it would offer it for ransom, and they will manifest regret when they see the chastisement and the matter shall be decided between them with justice and they shall not be dealt with unjustly. |
| Yusuf Ali: | Every soul that hath sinned, if it possessed all that is on earth, would fain give it in ransom: They would declare (their) repentance when they see the penalty: but the judgment between them will be with justice, and no wrong will be done unto them. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
مستقبل کی بات
حساب و کتاب