اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 11-پارہ نمبر                    Jonah-10 سورت یونس               Ayah No-22 ایت نمبر

هُوَ الَّذِىۡ يُسَيِّرُكُمۡ فِى الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ‌ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنۡتُمۡ فِى الۡفُلۡكِ ۚ وَ جَرَيۡنَ بِهِمۡ بِرِيۡحٍ طَيِّبَةٍ وَّفَرِحُوۡا بِهَا جَآءَتۡهَا رِيۡحٌ عَاصِفٌ وَّجَآءَهُمُ الۡمَوۡجُ مِنۡ كُلِّ مَكَانٍ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اُحِيۡطَ بِهِمۡ‌ ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَـهُ الدِّيۡنَۙ لَٮِٕنۡ اَنۡجَيۡتَـنَا مِنۡ هٰذِهٖ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيۡنَ‏
آسان اُردو وہ وہی ہے جو تمہیں خشکی اور سمندر میں چلاتا ہے حتی کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ (کشتیاں) اُن (مسافروں) کے ساتھ ایک اچھی(پاکیزہ) ہوا سے چلتی ہیں اور وہ اس (اچھی ہوا)سے خوش ہورہے ہوتے ہیں (کہ) ایک طوفانی ہوا اُن کے پاس آتی ہے اور اُن کے پاس ہر طرف سے لہر آتی ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ان (لہروں) سے گھر چکے ہیں؛ (پھر) وہ دین (یعنی عبادت) کو اُسی کے لیے مخلص کرکے اللہ کو ہی پکارتے ہیں : (کہ) اگر تُو ہمیں اس (مصیبت) سے نجات دے ، تو ہم واقعی شکر کرنے والوں میں سے ہوں گے
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی وہ اللہ ہی تو ہے جو تمہیں خشکی میں بھی اور سمندر میں بھی سفر کراتا ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں سوار ہوتے ہو، اور یہ کشتیاں لوگوں کو لے کر خوشگوار ہوا کے ساتھ پانی پر چلتی ہیں اور لوگ اس بات پر مگن ہوتے ہیں تو اچانک ان کے پاس ایک تیز آندھی آتی ہے اور ہر طرف سے ان پر موجیں اٹھتی ہیں اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ ہر طرف سے گھر گئے۔ تو اس وقت وہ خلوص کے ساتھ صرف اللہ پر اعتقاد کر کے صرف اسی کو پکارتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ)“ (یا اللہ !) اگر تو نے ہمیں اس (مصیبت سے) نجات دے دی تو ہم ضرور بالضرور شکر گزار لوگوں میں شامل ہوجائیں گے۔”
ابو الاعلی مودودی وہ اللہ ہی ہے جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے چنانچہ جب تم کشتیوں میں سوار ہو کر بادِ موافق پر فرحاں و شاداں سفر کر رہے ہوتے ہو اور پھر یکایک بادِ مخالف کا زور ہوتا ہے اور ہر طرف سے موجوں کے تھپیڑے لگتے ہیں اور مسافر سمجھ لیتے ہیں کہ طوفان میں گھر گئے، اُس وقت سب اپنے دین کو اللہ ہی کے لیے خالص کر کے اس سے دُعائیں مانگتے ہیں کہ “اگر تو نے ہم کو اس بلا سے نجات دے دی تو ہم شکر گزار بندے بنیں گے"
احمد رضا خان وہی ہے کہ تمہیں خشکی اور تری میں چلاتا ہے یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہو اور وہ اچھی ہوا سے انھیں لے کر چلیں اور اس پر خوش ہوئے ان پر آندھی کا جھونکا آیا اور ہر طرف لہروں نے انہیں آلیا اور سمجھ لے کہ ہم گِھر گئے اس وقت اللہ کو پکارتے ہیں نرے اس کے بندے ہوکر، کہ اگر تو اس سے ہمیں بچالے گا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے
احمد علی وہ وہی ہے جو تمہیں جنگل اور دریا میں سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں بیٹھتے ہو اور وہ کشتیاں لوگو ں کو موافق ہوا کے ذریعہ سے لے کرچلتی ہیں اور وہ لوگ ان سے خوش ہوتے ہیں تو ناگہاں تیز ہوا چلتی ہے اور ہر طرف سے ان پر لہریں چھانے لگتی ہیں اور و ہ خیال کرتے ہیں کہ بےشک وہ لہروں میں گھر گئے ہیں تو سب خالص اعتقاد سے الله ہی کو پکارنے لگتے ہیں کہ اگر تو ہمیں اس مصیبت سے بچادے تو ہم ضرور شکر گزار رہیں گے
فتح جالندھری وہی تو ہے جو تم کو جنگل اور دریا میں چلنے پھرنے اور سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں (سوار) ہوتے اور کشتیاں پاکیزہ ہوا (کے نرم نرم جھونکوں) سے سواروں کو لے کر چلنے لگتی ہیں اور وہ ان سے خوش ہوتے ہیں تو ناگہاں زناٹے کی ہوا چل پڑتی ہے اور لہریں ہر طرف سے ان پر (جوش مارتی ہوئی) آنے لگتی ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ (اب تو) لہروں میں گھر گئے تو اس وقت خالص خدا ہی کی عبادت کرکے اس سے دعا مانگنے لگتے ہیں کہ (اے خدا) اگر تو ہم کو اس سے نجات بخشے تو ہم (تیرے) بہت ہی شکر گزار ہوں
طاہر القادری وہی ہے جو تمہیں خشک زمین اور سمندر میں چلنے پھرنے (کی توفیق) دیتا ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں (سوار) ہوتے ہو اور وہ (کشتیاں) لوگوں کو لے کر موافق ہوا کے جھونکوں سے چلتی ہیں اور وہ اس سے خوش ہوتے ہیں تو (ناگہاں) ان (کشتیوں) کو تیز و تند ہوا کا جھونکا آلیتا ہے اور ہر طرف سے ان (سواروں) کو (جوش مارتی ہوئی) موجیں آگھیرتی ہیں اور وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ (اب) وہ ان (لہروں) سے گھر گئے (تو اس وقت) وہ اللہ کو پکارتے ہیں (اس حال میں) کہ اپنے دین کو اسی کے لئے خالص کرنے والے ہیں (اور کہتے ہیں: اے اللہ!) اگر تو نے ہمیں اس (بَلا) سے نجات بخش دی تو ہم ضرور (تیرے) شکر گزار بندوں میں سے ہوجائیں گے،
علامہ جوادی وہ خدا وہ ہے جو تمہیں خشکی اور سمندر میں سیر کراتا ہے یہاں تک کہ جب تم کشتی میں تھے اور پاکیزہ ہوائیں چلیں اور سارے مسافر خوش ہوگئے تو اچانک ایک تیز ہوا چل گئی اور موجوں نے ہر طرف سے گھیرے میں لے لیا اور یہ خیال پیدا ہوگیا کہ چارں طرف سے کَھرگئے ہیں تو دین خالص کے ساتھ اللہ سے دعا کرنے لگے کہ اگر اس مصیبت سے نجات مل گئی تو ہم یقینا شکر گزاروں میں ہوجائیں گے
ایم جوناگڑھی وه اللہ ایسا ہے کہ تم کو خشکی اور دریا میں چلاتا ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہوتے ہو اور وه کشتیاں لوگوں کو موافق ہوا کے ذریعہ سے لے کر چلتی ہیں اور وه لوگ ان سے خوش ہوتے ہیں ان پر ایک جھونکا سخت ہوا کا آتا ہے اور ہر طرف سے ان پر موجیں اٹھتی چلی آتی ہیں اور وه سمجھتے ہیں کہ (برے) آ گھرے، (اس وقت) سب خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کو پکارتے ہیں کہ اگر تو ہم کو اس سے بچالے تو ہم ضرور شکر گزار بن جائیں گے
حسین نجفی وہ (خدا) وہی ہے جو تمہیں خشکی و تری میں سیر و سفر کراتا ہے یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں سوار ہوتے ہو اور وہ موافق ہوا کے مطابق مسافروں کو لے کر چلتی ہیں اور وہ خوش و خرم ہوتے ہیں تو پھر اچانک بادِ مخالف کا تھپیڑ آجاتا ہے اور ہر طرف سے موجیں اٹھتی چلی آتی ہیں اور وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اب ہم بالکل گھر گئے ہیں (اور زندہ بچنے کی کوئی امید باقی نہیں رہتی) تو اس وقت دین کو اللہ کے لئے خالص کرکے یعنی بڑے اخلاص کے ساتھ خدا کو پکارتے ہیں کہ (یا اللہ) اگر تو ہمیں اس (مصیبت) سے نجات دے دے تو ہم ضرور تیرے شکر گزار بندوں میں سے ہوں گے۔
=========================================
M.Daryabadi: He it is who enableth you to travel by land and sea until when ye are in ships and they run away with them with a goodly wind and they rejoice thereat, there cometh upon them a tempestuous wind and there cometh unto them a billow from every side, and they imagine that they are encompassed therein, they cry unto Allah making there faith pure for Him: If Thou deliverest us from this. we would surely be of those who are thankful.
M.M.Pickthall: He it is Who maketh you to go on the land and the sea till, when ye are in the ships and they sail with them with a fair breeze and they are glad therein, a storm-wind reacheth them and the wave cometh unto them from every side and they deem that they are overwhelmed therein; (then) they cry unto Allah, making their faith pure for Him only: If Thou deliver us from this, we truly will be of the thankful.
Saheeh International: It is He who enables you to travel on land and sea until, when you are in ships and they sail with them by a good wind and they rejoice therein, there comes a storm wind and the waves come upon them from everywhere and they assume that they are surrounded, supplicating Allah, sincere to Him in religion, "If You should save us from this, we will surely be among the thankful."
Shakir: He it is Who makes you travel by land and sea; until when you are in the ships, and they sail on with them in a pleasant breeze, and they rejoice, a violent wind overtakes them and the billows surge in on them from all sides, and they become certain that they are encompassed about, they pray to Allah, being sincere to Him in obedience: If Thou dost deliver us from this, we will most certainly be of the grateful ones.
Yusuf Ali: He it is Who enableth you to traverse through land and sea; so that ye even board ships;- they sail with them with a favourable wind, and they rejoice thereat; then comes a stormy wind and the waves come to them from all sides, and they think they are being overwhelmed: they cry unto Allah, sincerely offering (their) duty unto Him saying, "If thou dost deliver us from this, we shall truly show our gratitude!"
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

منفرد یا الگ آیت: ایک الگ بات یا موضوع کے بارے میں ہے
انسان کی فطرت بیان کی گئی ہے
شانِ باری تعالی