Home-ویب پیج
طلاق

میاں بیوی کے درمیان طلاق ہمیشہ کسی نہ کسی اختلاف کی وجہ سے ہوتی ہے چاہے یہ اختلاف مالی ہو بچوں کے بارے میں ہو رشتے داروں کے بارے میں ہو یا کوئی بھی ایسا مسئلہ ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے میاں بیوی کے درمیان وہ انڈرسٹینڈنگ نہیں رہتی اور دلوں میں ناراضگی پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہےجو اخر کار یہ صورت حال عموما طلاق پہ جا کر ختم ہوتی ہے
    اللہ تعالی نے قران میں یہ فرمایا ہے : لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ١ۚ فَاِنْ فَآءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ اُن کے لیے جولوگ اپنی عورتوں سے علحیدگی کر لیتے ہیں چار مہینے کا انتظار ہے؛ پھر اگر وہ رجوع کر لیں، توبے شک! اللہ غفور رحیم ہے (2:226)
    لیکن اگر خاوند چار مہینے تک رجوع نہیں کرتا اور طلاق کا ہی عزم کر لیتا ہے وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ اور اگر وہ طلاق کا عزم ( پکا ارادہ) کرلیں تو پھر بے شک اللہ سننے جاننے والا ہے (2:227)
     چنانچہ خاوند کو چار مہینے کی مہلت دی گئی ہے یا تو بیوی کو رکھ لے یا پھر طلاق کا عزم کر لے۔ ساری زندگی یا غیر معینہ مدت تک وہ بیوی کو لٹکائے نہیں رکھ سکتا۔ اُس کو دونوں میں سے ایک فیصلہ ضرور کرنا پڑے گا۔ عزم سوچ سمجھ کر کیا جاتا ہے یا کیا جانا چاہیے۔ چانانچہ اس آیت کی روشنی میں جلدی میں، غصے میں اور اچانک طلاق دینے کی ممانعت ہے۔

طلاق دو ہیں، اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ طلاق دو دفعہ ہے 2:229
یعنی انسان ایک عورت کے ساتھ اپنی پوری ازدواجی زندگی میں صرف دو دفعہ طلاق کا حق استعمال کرسکتا ہے اس کو ایک کھیل نہیں بنا سکتا ہے وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا اور اللہ کے احکامات کومذا ق نہ بناﺅ 2:229
پوری ازدواجی زندگی میں دو دفعہ طلاق عدت سے مشروط ہے۔ یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ اے نبیﷺ! جب تم (یعنی مومنین) بیویوں کو طلاق دیں،پھر اُن کو طلاق اُن کی عدت کے لئے دیں اور پھر عدت(مدت) کی گنتی(پوری) کریں 65:1
قرآن میں تو یہ نہیں بتایا گیا کہ خاوند نے لفظ طلاق کتنی دفعہ کہنا ہے۔ چنانچہ ایک دفعہ یا جتنی بھی دفعہ طلاق کا لفظ کہا جاے، دونوں طلاقوں میں سے ایک کا عمل واقع ہو جاے گا اور عدت واجب اور شروع ہو جاے گی۔
پوری ازدواجی زندگی میں اگر انسان نے دو طلاقوں کا حق استعمال کر لیا اور عدت کے عرصے میں بیوی سے رجوع بھی کر لیا ہو تو اب مزید طلاق کا کوئی اجازت نہیں۔ لیکن اگر انسان نے اب طلاق کہا تو بیوی بغیر عدت کے بھی فوراََ حرام قرار پا جاے گی۔

اگر بیوی کو اپنے خاوند سے برے سلوک اور بے وفائی کا ڈر ہو تو قران بیوی کو خاوند سے علیحدگی کا حق دیتا ہے وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا اگر ایک بیوی کو اپنے خاوند سے بیوفائی یانظر اندازی کا ڈر ہو تو 4:128
لیکن یہ حق استعمال کرنے سے پہلے میاں بیوی کو اپس میں صلح اصلاح کرنی چاہیے کیونکہ یہ چیز واضح طور پہ بتا دی گئی ہے کہ طلاق جیسا کام کرنے کی بجائے صلح بہت بہتر ہے فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَهُمَا صُلْحًا١ؕ وَ الصُّلْحُ خَیْرٌ تو ان دونوں پرکوئی گناہ نہیں اگر وہ دونوں اپنے درمیان کسی طرح سے صلح کر لیں اور صلح ( ہر صورت میں) بہتر ہے 4:128
ان حالات میں قران سے ہدایت ملتی ہے کہ ایک منصف خاوند کی طرف سے اور ایک منصف بیوی کے اہل و عیال سے لے کر اپس میں اس کا فیصلہ کریں وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَا اور اگر تمہیں دونوں( میا ں اور بیوی) کے درمیان کشیدگی کا خوف ہو، پھر ایک ثالث(منصف) کو اُس (مرد) کے خاندان سے اور ایک ثالث (منصف) اس (عورت) کے خاندان سے مقرر کر و 4:35
اگر صلح کر لیں تو بھی کوئی گناہ نہیں اور اگر دونوں الگ ہو جائیں تو بھی اللہ دونوں کو اپنے مال سے دے گا یعنی ان کی کفالت کا سبب کرے گا وَ اِنْ یَّتَفَرَّقَا یُغْنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنْ سَعَتِهٖ لیکن اگر وہ (میاں بیوی) الگ ہو جائیں،(صلح کی کوئی گنجائش نہ رہے) تو اللہ ہر ایک کو اپنے وسعتِ مال سے غنی (بے نیاز) کر دے گا 4:130

طلاق عدت کے لیے دو اور عدت کا حساب رکھو یعنی طلاق عزت سے مشروط ہے اور عدت کی گنتی رکھنی لازم ہے یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ اے نبیﷺ! جب تم (یعنی مومنین) بیویوں کو طلاق دیں،پھر اُن کو طلاق اُن کی عدت کے لئے دیں اور پھر عدت(مدت) کی گنتی(پوری) کریں 65:1
جس عورت کو طلاق دی گئی ہو اس کی عدت تین حیض ہے وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ١ؕ طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک انتظار کروائیں 2:228
جو عورت ہے سے مایوس ہو چکی ہو یعنی حیض نارمل نہ ہو اور تمہیں یعنی خاوند کو اس بارے میں شک ہو تو عدت تین مہینے ہے وَ الّٰٓئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ١ۙؕ تمہاری عورتوں میں سے جوحیض سے مایوس ہیں اگر تمہیں شک ہے (کہ حیض باقاعدہ نہیں ہے)، تو پھراُن کی عدت تین مہینے ہے 65:4
اور جس عورت کو حیض اتا ہی نہیں ہو تو اس کی عدت تین مہینے ہے ١ۙ وَّ الّٰٓئِیْ لَمْ یَحِضْنَ١ؕ اور(ان کی بھی)جن کو حیض نہ آتا ہو. 65:4
حاملہ عورت کی عدت حمل سے فارغ ہونے تک ہے وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ؕ .اور حاملہ عورتیں، اُن کی مدت (اس وقت تک) ہو گی کہ وہ اپنے حمل وضع کر لیں (یعنی بچے کے جنم تک) 65:4
نکاح ہو چکا ہو مگر عورت کو چھوا نہ ہو تو عورت کے لیے کوئی عدت نہیں یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا ایمان والو! جب تم نے مومن عورتوں سے نکاح کیا پھر تم نے اُن کو طلاق دے ڈالی قبل اس کے کہ تم نے اُن کو چُھوا ہو پھر تمہارے لیے اُن (عورتوں) پر کوئی مدت (عدت) نہیں کہ تم اُس(مدت) کو (اُن عورتوں سے)پورا کراؤ 33:49

عدت کی مدت مکمل ہونے پر یا تو عورت کو معروف یعنی اچھے طریقے سے رکھ لینا ہے یا معروف یعنی اچھے طریقے سے فارغ کر دینا ہے فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ پھر جب وہ (مطلقہ عورتیں)اپنی مدت کو جا پہنچیں، پھراُن کو اچھے طریقے(سلوک) سے رکھ لو یا اُن کو اچھے طریقے(سلوک) سے الگ کر دو، 65:2
ان دونوں میں سے جو بھی فیصلہ خاوند کرے تم یعنی مردوں میں سے دو گواہ ہونے چاہیے جو انصاف والے ہوں گواہی کو اللہ کے لیے قائم رکھیں یعنی اللہ کو اپنی گواہی میں سامنے رکھیں کہ وہ ہر چیز جانتا ہے وَّ اَشْهِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَ اَقِیْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ اور تم میں سے دو انصاف والے (تمہارے فیصلے کی)گواہی دیں، اور گواہی کو اللہ کے لئے ہی قائم رکھو. 65:2
یہ یعنی عدت کے بعد عورت کو رکھ لینا یا فارغ کر دینا گواہی رکھنی اور گواہی میں اللہ کو سامنے رکھنا احکامات ہیں کہ ان سے وارننگ نصیحت کی جاتی ہے اس انسان کو جو اللہ اور یوم اخر پر ایمان رکھتا ہے کہ ان احکامات پر قائم رہو ذٰلِكُمْ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ . اس سے تمہیں نصیحت کی جاتی ہے جو کوئی بھی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے 65:2

عورت پر حلال نہیں کہ اس چیز کو چھپائے جو اللہ نے اس کے رحم میں پیدا کی ہو یعنی بچہ یا حیض اگر وہ اللہ اور یوم اخر پر ایمان رکھتی ہے تو ایسا ہرگز نہیں کرے گی وَ لَا یَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ یَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِیْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اور اگر وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں تو یہ ان(عورتوں) کے لیے حلال نہیں ہے کہ جو کچھ اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا کیا ہے اُس کو چھپائیں 2:228
عورت کو یہ یاد رکھنا ہے کہ اس کا خاوند اس حال یعنی عدت کے دوران حاملہ یا حیض میں اس کو واپس لینے کا حق رکھتا ہے بشرط اس خاوند کا ارادہ اصلاح یعنی صلح صفائی کا ہو ١ؕ وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِیْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا اور اُن کے خاوند اُس (یعنی عورت کے پیٹ میں بچہ ہونے کی صورت )میں، اُن (عورتوں) کو واپس لینے میں حق رکھتے ہیں اگر وہ (خاوند) اصلاح(صلح) کا ارادہ رکھتے ہوں 2:228
عدت کے دوران شوہر کے گھر میں رہتے ہوئے عورت کوئی واضح بے حیائی کا کام نہیں کرے گی ا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ ان(بیویوں)کو ان کے گھروں سے باہر نہ نکالیں اور نہ وہ (بیویاں خود ہی) نکلیں ماسوائے کہ وہ کوئی واضح بے حیائی کریں. 65:1
اگر عورت کے پاس دودھ پیتا بچہ ہے تو اس سے بچے کے باپ کو بچے کی بنیاد پر تکلیف نہیں دینی ہے یعنی بچے کو باپ سے ملنے نہ دینا یا بچے کی پرورش صحیح نہ کرنا ١ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَ لَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ١ۗ ماں کو اُس کے بچے (کی وجہ)سے کوئی تکلیف نہیں دینی ہے اور نہ ہی اُس(باپ)کو جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اُس کے بچے (کی وجہ)سے(تکلیف دینی ہے) 2:233

بیوی کو یا تو دستور کے مطابق رکھ لینا ہے یا بھلائی کے ساتھ فرق کر دینا ہے (یعنی ایک فیصلہ کر لینا ہے عورت کو ہمیشہ کے لیے لٹکائے نہیں رکھنا کہ وہ ادھر کی رہے نہ کہیں اور کی) فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍ پھر( بیوی کو)دستور (معروف)سے رکھ لینا ہے یا اچھائی (باعزت طریقے )سے چھوڑ دینا ہے 2:229
وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ ور جب تم نے عورتوں کو طلاق دے دی پھر وہ اپنی مدت (تین حیض کی) کو پہنچ گئیں پھریا اُن کو معروف(رواج)سے رکھ لو یا اُن کو معروف (دستور)سے رخصت کر د 2:231
عدت مکمل ہو جانے کے بعد عورت کو زبردستی ہو کے رکھنا اپنے اوپر ظلم کرنے کے مترادف ہے اور اللہ ظالمین کو پسند نہیں کرتا وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ اُن کو تکلیف پہنچانے کی خاطر نہ روکو تاکہ تم زیادتی کروجو کوئی بھی وہ (سلوک) کرے گا پھروہ(انسان) اپنی جان پر ظلم کرے گا 2:231
اگر عورت کے پاس دودھ پیتا بچہ ہے تو اس عورت کی ممتا کو کسی طرح کی تکلیف نہیں دینی ہے لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا ماں کو اُس کے بچے (کی وجہ)سے کوئی تکلیف نہیں دینی ہے 2:233
اگر عورت کو چھونے سے پہلے طلاق دے دی اور حق مہر بھی مقرر نہیں تھا تو پھر بھی عورت کو کچھ نہ کچھ مال اپنی حیثیت کے مطابق دینا ہے اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِیْضَةً وَّ مَتِّعُوْهُنَّ١ۚ اگر تم عورتوں کو طلاق دو جب کہ تم نے ان کو چُھوا ہی نہیں یا ان کے لیے ایک حق مہر مقرر نہیں کیا ہے اوراُن(عورتوں) کو کچھ نہ کچھ دو 2:236
اگر عورت کو چھونے سے پہلے طلاق دے دی اور حق مہر مقرر کیا تھا تو اس کا ادھا ادا کرو اگر عورت اپنی خوشی سے معاف کر دے تو کوئی گناہ نہیں وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِیْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اور اگر تم نے ان (عورتوں) کو طلاق دی اس سے پہلے کہ تم نے ان کو چھوا اور تم ان کے لیے ایک حق مہر مقرر کر چکے تھے، تو پھر جو (حق مہر) تم نے فرض (مقرر) کیا تھا (اُس کا) ادا (ادا کرو) 2:237
اور اگر تم مرد اپنا ادھا حصہ چھوڑ دو یعنی پورا حق مہر دے دو تو بھی کوئی گناہ نہیں بلکہ نیکی ہے اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ١ؕ یا وہ (اپنا آدھا حصہ) معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کا بندھن ہے 2:237
متقین پر تو فرض ہے کہ طلاق شدہ عورتوں کو کچھ نہ کچھ مال ضرور دو وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَ اور طلاق یافتہ عورتوں کے لیے دستور سے(اچھائی سے) کچھ نہ کچھ( دینا ): یہ (چیز) متقین پر ایک فرض (حق)ہے 2:241
عورت کو طلاق موثر ہونے سے پہلے زبردستی اپنے گھروں سے نانکال دو نہ ہی وہ خود نکلیں ما سوائے کہ وہ عورت واضح فحاشی کریں ١ۚ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ ان(بیویوں)کو ان کے گھروں سے باہر نہ نکالیں اور نہ وہ (بیویاں خود ہی) نکلیں ماسوائے کہ وہ کوئی واضح بے حیائی کریں. 65:1
عورتوں کو ان کے گھروں میں رکھو جہاں تم خود اپنے وسائل کے مطابق رہتے ہو ان کو تکلیفیں نہ دو کہ ان پر زندگی مشکل کر دو اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْهِنَّ١ؕ اُن (عورتوں)کو وہاں رکھو جہاں تم اپنے وسائل کے مطابق رہتے ہو، اور اُن کو تکلیفیں نہ دوکہ اُن پر مشکلات بنا دو. 65:6

جب تم بیوی کو طلاق دو تو طلاق عدت کے لیے دو اور عدت یعنی مدت کی گنتی رکھو یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ اے نبیﷺ! جب تم (یعنی مومنین) بیویوں کو طلاق دیں،پھر اُن کو طلاق اُن کی عدت کے لئے دیں اور پھر عدت(مدت) کی گنتی(پوری) کریں 65:1
طلاق دو ہیں یعنی مرد صرف دو بار ہی زندگی میں ایک عورت کو طلاق دے سکتا ہے اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ طلاق دو دفعہ ہے 2:229
عدت ختم ہونے تک پھر بیوی کو دستور یعنی معروف طریقے سے رکھ لینا یا اچھائی باعزت طریقے سے چھوڑ دینا ہے ۪ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍ پھر( بیوی کو)دستور (معروف)سے رکھ لینا ہے یا اچھائی (باعزت طریقے )سے چھوڑ دینا ہے 2:229
جب تم نے عورتوں کو طلاق دے ہی دی تو پھر وہ اپنی مدت کو پہنچ گئی تو پھر یا ان کو دستور رواج سے رکھ لو یا ان کو اچھائی دستور سے رخصت کر دو وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ١۪ ور جب تم نے عورتوں کو طلاق دے دی پھر وہ اپنی مدت (تین حیض کی) کو پہنچ گئیں پھریا اُن کو معروف(رواج)سے رکھ لو یا اُن کو معروف (دستور)سے رخصت کر دو 2:231
پھر جب وہ متعلقہ عورتیں اپنی مدت کو جا پہنچی پھر ان کو اچھے طریقے سے رکھ لو یا ان کو اچھے طریقے سلوک سے الگ کر دو فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ پھر جب وہ (مطلقہ عورتیں)اپنی مدت کو جا پہنچیں، پھراُن کو اچھے طریقے(سلوک) سے رکھ لو یا اُن کو اچھے طریقے(سلوک) سے الگ کر دو، 65:2
پھر جب اس خاوند نے اس بیوی کو طلاق دے ہی ڈالی یعنی عدت کی مدت میں رجوع نہ کیا یا دو طلاقوں کا حق استعمال کر چکا تو بیوی اس پر حلال نہیں جب تک وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے اور اگر دوسرا خاوند اس کو طلاق دے دے تو پھر پہلے والا خاوند اس بیوی سے دوبارہ شادی کر سکتا ہے فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ١ؕ پھر اگر وہ (خاوند) اُس (بیوی) کو طلاق دےدیتا ہے ،پھراس کے بعد وہ (بیوی) اُس(خاوند) کے لیے حلال نہیں حتی کہ وہ (بیوی) کسی ایک مرد سے نکاح کرے جو (یعنی مرد) اُس (یعنی خاوند) کا غیر(یعنی دوسرا کوئی) ہو 2:230

بیوی کو طلاق دے چکے ہو وہ اپنی عدت پوری کر چکی ہو تو اب اس کی دوبارہ کہیں شادی ہونے میں رکاوٹیں کھڑی نہ کرو اس کے بارے میں تمہیں وارننگ دی جاتی ہے کہ ایسا نہ کرو یعنی طلاق دینے کے بعد اب عورت کو اپنا مستقبل بنانے میں تم کوئی مسئلے کھڑے نہ کرو وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ اور جب تم نے عورتوں کو طلاق دے دی پھر وہ اپنی مدت (عدت)کو پہنچ گئیں، پھر تم (طلاق دینے والے خاوند) ان (عورتوں) کونہ روکو کہ وہ (عورتیں) اپنے (ہونے والے)خاوندوں سے نکاح کریں، 2:232

حلالہ ، جو کہ عرف عامہ میں بولا جا رہا ہے، یہ لفظ قران میں تو استعمال نہیں ہوا البتہ یہ لفظ سورت البقرہ کی آیت سے اخذ کیا ہوا لگتا ہے اس سے مراد وہ عمل ہے جس سے ایک مطعلقہ عورت، طلاق دینے والے شوہر کے لیے، دوبارہ کیسے حلال ہو سکتی ہے فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ١ؕ پھر اگر وہ (خاوند) اُس (بیوی) کو طلاق دےدیتا ہے ،پھراس کے بعد وہ (بیوی) اُس(خاوند) کے لیے حلال نہیں حتی کہ وہ (بیوی) کسی ایک مرد سے نکاح کرے جو (یعنی مرد) اُس (یعنی خاوند) کا غیر(یعنی دوسرا کوئی) ہو 2:230
قرآن کی رو سے طلاق صرف دو ہیں۔ تیسری طلاق کا سرے سے کوئی بیان یا وجود ہی نہیں ہے۔ اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ طلاق دو دفعہ ہے 2:229
طلاق کا موثر ہونا، طلاق لفظ کے کہنے کی تعداد پر منحصر نہیں کہ ایک دفعہ کہی، تین دفعہ کہی، یا چار دفعہ کہی۔ بلکہ اس کا تعلق صرف اور صرف عدت کے ساتھ ہے۔ قطع نظر اس سے کہ شوہر نے کتنی دفعہ منہ سے لفظ طلاق کہا، اُس کے کہنے سے عدت واجب ہو جائے گی۔ یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ اے نبیﷺ! جب تم (یعنی مومنین) بیویوں کو طلاق دیں،پھر اُن کو طلاق اُن کی عدت کے لئے دیں اور پھر عدت(مدت) کی گنتی(پوری) کریں 65:1
اب یا تو عدت کےختم ہونے سے پہلے یا عدت کے ختم ہونے کے فوراََ بعد اس کو بیوی کو رکھنا یا نہ رکھنے کا فیصلہ کرنا ہے۔ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ پھر جب وہ (مطلقہ عورتیں)اپنی مدت کو جا پہنچیں، پھراُن کو اچھے طریقے(سلوک) سے رکھ لو یا اُن کو اچھے طریقے(سلوک) سے الگ کر دو، 65:2
اگر وہ بیوی سے رجوع کر لیتا ہے یعنی رکھ لیتا ہے۔ تو شوہر کا دو طلاقوں کے حق سے ایک حق ختم ہو جاتا ہے۔ اب اس کے پاس پوری ازدواجی زندگی کے لیے صرف ایک دفعہ طلاق دینے کا حق ہے۔ اور اگر وہ بیوی سے رجوع نہیں کرتا تو عدت ختم ہونے پر بیوی اُس پر حرام ہے۔
اسی طرح اگر وہ ازدواجی زندگی میں دوسرا بھی حقِ طلاق استعمال کرتا ہے تو پھر وہی ہوگا جیسا اوپر والے پیرا میں لکھا ہے۔اگرعدت کے ختم ہونے پر بیوی سے رجوع نہیں کرتا تو بیوی حرام ہے اور اگر رجوع کر لیتا ہے تو پھر اب ساری زندگی اس بیوی کے ساتھ وہ طلاق والا معاملہ نہیں کرسکتا کیوں کہ وہ اب اپنے دونوں حق طلاق استعمال کر چکا ہے۔
دونوں حق طلاق استعمال کرنے اور رجوع دو دفعہ کرنے کے بعد اگر وہ پھر یہ قدم اٹھاتا ہے تو بیوی سے رجوع نہیں ہو سکتا اور وہ بغیر عدت کے بھی اس پر حرام ہےکیوں کہ عدت صرف اور صرف دو حق طلاق سے مشروط ہے۔ اور قران میں دو سے زیادہ حق طلاق نہیں ہیں۔
اگرمطعلقہ بیوی چاہے پہلے حق طلاق، یا دوسرے حق طلاق کے بعد یا اُس کے بعد کھلواڑ کرنے سے حرام ہو جاے تو پھر طلاق دینے والے شوہرکے لیے وہ حلال نہیں رہتی جب تک کہ وہ (یعنی بیوی) اپنی مرضی سے کسی اور دوسرے مرد سے شادی نہ کرے اور وہ نیا مرد(شوہر) اب اس عورت کو اپنی مرضی سے طلاق دے فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ١ؕ فَاِنْ طَلَّقَهَا پھر اگر وہ (خاوند) اُس (بیوی) کو طلاق دےدیتا ہے ،پھراس کے بعد وہ (بیوی) اُس(خاوند) کے لیے حلال نہیں حتی کہ وہ (بیوی) کسی ایک مرد سے نکاح کرے جو (یعنی مرد) اُس (یعنی خاوند) کا غیر(یعنی دوسرا کوئی) ہو پھراگر وہ (دوسرا خاوند) اُس کو طلاق دے تو پھر 2:230
عورت عدت گزارے اور پھر اگر وہ (عورت) چاہے تو پہلے والے مرد سے شادی کرلے۔
طلاق موثر ہونے کے بعد، سارا اختیار عورت کا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے چاہے تو کسی مرد سے شادی کرے یا نہ کرے، کب کرے اور کب اُن کی دوبارہ طلاق ہو۔ یہ اختیار طلاق دینے والے مرد کا نہیں کہ وہ اپنا طے شدہ پروگرام بنا کر عورت کا حلالہ کرواتا رہے یا اُس کو مجبور کرے۔ وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ اور جب تم نے عورتوں کو طلاق دے دی پھر وہ اپنی مدت (عدت)کو پہنچ گئیں، پھر تم (طلاق دینے والے خاوند) ان (عورتوں) کونہ روکو کہ وہ (عورتیں) اپنے (ہونے والے)خاوندوں سے نکاح کریں، 2:232
حلالہ کے بعد دوبارہ اُسی عورت سے شادی کی شرط
پہلے والے خاوند اور ہونے والی دوبارہ بیوی کو یقین ہو کہ اب وہ شادی کر کے اللہ کی حدود قائم رکھ سکیں گے یعنی کہ وہ میاں بیوی کی طرح اچھی طریقے سے رہ لیں گے دوبارہ یہ اس طرح کا کھیل نہیں کھیلیں گے فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ تو پھران دونوں (پہلے والے خاوند اور بیوی) پر کوئی گناہ نہیں اگر وہ ایک دوسرے سے دوبارہ رجوع (نکاح) کر لیں اگر اُن (دونوں) کا خیال ہو کہ وہ (دونوں) اللہ کی (بنائی ہوئی)حدود کو( اب) قائم رکھ سکیں گے 2:230

اگر عورت حاملہ ہو تو اس عورت کا خرچہ بچے ہونے تک برداشت کرو وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ حَتّٰى یَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ۚ اور اگر اُن کو حمل ہے پھر اُن پر (روز مرہ کے اخراجات کے لئے) خرچ کرو حتی کہ وہ اپنے حمل سے فارغ ہو جائیں 65:6
پھر اگر وہ عورت سابقہ بیوی تمہارے لیے بچے کو دودھ پلائے تو اس کا خرچہ دو فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ پھر اگر وہ تمہارے لئے بچے کو دودھ پلائیں تو پھر اُن کو اُن کی اجرت(معاوضہ) دو 65:6

اور اپنے درمیان بچے کے دودھ پرورش کے لیے اچھے طریقے سے مشورہ کرو وَ اْتَمِرُوْا بَیْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ اوراپنے درمیان اچھے سلوک سے مشورہ کرو 65:6
تم یعنی مرد اور عورت مشکلیں پیدا کرتے ہو تو پھر اس مرد کے لیے کوئی عورت بچے کو دودھ پلائے وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰىؕ ؛ اور اگر تم (دونوں) مشکلات بناتے ہو تو پھر کوئی دوسری عورت اُس (باپ) کے لئے (بچے کو) دودھ پلائے 65:6
مرد کو خرچہ اپنی استعداد کے مطابق کرنا ہے لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰهُ اللّٰهُ (مال کی) وسعت والے کو اپنی وسعت (فراخ دلی)سے (عورت اور بچے پر) خرچ کرنا چاہئے، اور جس پر اس کے رزق کی کمی (تنگی) ہے، تو پھر اُس سے ہی وہ خرچ کرے جو اللہ نے اُس کو دیا ہے. 65:7

مرد کے لیے حلال نہیں کہ عورت کو دیے ہوئے مال سے کوئی بھی چیز واپس لے لے ماں سوائے کہ دونوں یعنی میاں بیوی کو ڈرو کہ اللہ کی حدود قائم نہیں رکھ سکیں گے وَ لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْئًا اِلَّاۤ اَنْ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ اور تمہارے ( یعنی خاوندکے )لیے حلال نہیں ہے کہ تم اُس میں سے کچھ لے لو جو چیز بھی تم ان(عورتوں) کو دے چکے ہو ؛ 2:229
اگر تمہیں یعنی اہل خاندان یا منصف کو اندیشہ ہو کہ وہ میاں بیوی اللہ کی حدود قائم نہیں رکھ سکتے تو اس میں کوئی گناہ نہیں جس سے بیوی فدیہ دے کر اپنی جان چھڑا لے فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖ١ؕ تو اُن دونوں(خاوند، بیوی) پر کوئی گناہ نہیں اُس میں جس سے(وہ بیوی) فدیہ (معاوضہ) دے (کر آزاد ہو جائے) 2:229

طلاق کے بارے میں اللہ کی احکامات کا مذاق نہ بناؤ یعنی اس طرح کے ایک سنجیدہ معاملے کو کھیل تماشہ نہ بنا لو وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا اور اللہ کے احکامات کومذا ق نہ بناﺅ، 2:231
طلاق کے سلسلے میں بیان کردہ قوانین اللہ کی حدود ہیں ان پر عمل کرو ان کو نہ توڑو ورنہ اللہ تمہیں ایک مثالی عذاب بھی دے سکتا ہے فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ عَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا ،پس ہم نے اُن کا سختی سے حساب لیا اور اُس کو عذاب دیا، ایک مثالی (سخت) عذاب 65:8