اُردو عربی انڈکس    Home-ویب پیج Page down-↓

روٹ الفاط: ن ف ق

منافقین
یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ منہ سے کہی ہوئی باتوں کے برعکس ہوتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ان کے منہ پر کچھ اور ہوتا اور دل میں کچھ اور ہوتا ہے،
کہتے (تو) ہیں: (کہ) ہم اللہ کو اور یوم آخر کومانتے ہیں،اور وہ ماننے والوں سے نہیں ہیں۔ 2:8 دھوکہ دیتے ہیں اللہ کو اور( ان کو بھی)جو لوگ مانتے ہیں2:9 دھوکہ نہیں دیتے ماسوائے اپنے آپ کو؛اور وہ سمجھتے نہیں ہیں2:9
اُن (منافقوں)کے دلوں میں(کفر کی) ایک بیماری ہے 2:10 ، پھراللہ اُن کی (یہ)بیماری( اور) بڑھا دیتا ہے2:10 جھوٹ بولتے ہیں 2:10
جب اُن(منافقین) سے کہا جاتا ہے: تم زمین میں فساد نہ کرو،2:11 وہ کہتے ہیں: ہم ہی تو صرف اصلاح کرنے والے (لوگ) ہیں 2:11 فسادی ہیں، لیکن یہ بات سمجھتے نہیں 2:12
ایمان والوں کو بیوقوف سمجھتے ہیں،2:13 حالانکہ بیوقوف خود ہوتے ہیں، لیکن سمجھتے نہیں 2:13 ہر کسی کے منہ پر اُسی کے ہونے کا کہتے ہیں2:14
لوگوں کا مذاق بناتے ہیں،2:14 اللہ اُن(منافقوں) سے(خود) مذاق کرتاہے2:15 اُن کی سرکشی میں اُن کو مہلت ملتی ہے 2:15
اندھوں کی طرح بھٹکتے رہتے ہیں،2:15 ہدایت سے گمراہی خریدتے ہیں2:16 اللہ کی طرف سے ہدایت نہں ملتی2:16
ان (منافقین) کی مثال2:17 (یہ منافقین) بہرے، گونگے، اندھے ہیں2:18 کافرین اور اللہ ان کا احاطہ کیے رکھتا ہے2:19
اگر اللہ (ایسا )چاہتا ، تو وہ واقعی اُن کا سننا اور ان کا دیکھنا چھین لیتا 2:20 یہ یہ یہ یہ یہ2:18
اور اُن کے لیے ایک درد ناک عذاب ہے 2:10
سورت الکوثر کے مطابق، نبی اکرمﷺ کو کثرت سے نوازنے کے بعد اللہ باری تعالی نے آپﷺ کو حکم دیا کہ آپ قربانی کریں۔ چنانچہ تدبر القران سے آگاہی ہوتی ہے کہ اگر اللہ باری تعالی انسان کو کثرت سے نوازاے تو اس کو سنتِ نبویﷺ پر عمل کرتے ہوے قربانی کرنی چاہیے: اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ بے شک! ہم نے آپﷺ کو "کثرت" (سے) عطا کیا ہے۔پھر اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی دیں۔ 108:2
قربانی کو صرف اللہ کے لیے ہی منسوب کرنی چاہیے۔ اپنے کسی بزرگ یا کسی وفات شدہ بندے کے نام سے منسوب کرنا قرآنی تعلمات کے خلاف ہے۔ نبی اکرمﷺ کو کہا گیا کہ وہ خاص طور پر لوگوں کو کہیں: قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ (آپؐ) کہیں: بے شک! میری نماز اور میری قربانی (عبادت)اورمیرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام مخلوق (عالمین) کا رب ہے 6:162
قربانی کے گوشت کے تین حصے کر لینا، سورت الحج کی آیت سے ثابت ہے: فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ١ؕ ۔۔۔۔۔۔، پھر اُن میں سے کھاؤ اور قناعت پسندوں کو اور مانگنے والوں کو بھی کھلاؤ.۔۔۔۔۔۔ 22:36
بنی اسرئیل نے نبی اکرمﷺ کو چیلنج کیا کہ ہمارے لیے ایک ایسی قربانی لائی جاے جو کو کہ آگ کھا لے۔ چنانچہ لگتا ہے کہ قربانی کا فلسفہ بنی اسرائیل میں بھی تھا اَلَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَیْنَاۤ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰى یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُهُ النَّارُ١ؕ ۔۔۔۔۔۔،وہ لوگ جو کہتے ہیں: بے شک! اللہ نے ہماری طرف عہد(حکم) کیا ہے کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں حتی کہ وہ(رسول) ہمارے پاس ایک قربانی لائے اُس کو آگ کھا لے.۔۔۔۔۔۔ 3:183
بنی آدم کے دوبیٹوں کی قربانی کے سلسلے میں یہ چیز واضح ہوئی کہ اللہ قربانی تو صرف متقین کی ہی قبول کرتا ہے قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ ۔۔۔۔۔۔، اُس(جس کی قربانی قبول ہوئی) نے کہا: اللہ توصرف متقین سے ہی قبول کرتا ہے .۔۔۔۔۔۔ 5:27
اللہ باری تعالی نے قرآن میں واضح طور پر بتا دیا کہ جانوروں کا خون یا گوشت تو اُس تک نہیں پہنچتا لیکن آپ لوگوں کا تقوی ضرور پہنچتا ہے۔ چنانچہ وہ قربانی جس کے ساتھ کرنے والے کے پاس تقوی نہیں، تو اُس قربانی کا فاہدہ پھر کیا ہے۔ لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ١ؕ ۔۔۔۔۔۔، ہر گز نہیں پہنچتا اللہ کو اُن کا گوشت اور نہ ہی اُن کا خون لیکن اُس تک تم سے تقوی ضرور پہنچتا ہے. .۔۔۔۔۔۔ 22:37
آپﷺ کو حکم دیا گیا کہ ملت ابرہیم کی پیروی کریں ثُمَّ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ پھر ہم نے آپؐ کی طرف وحی کی کہ ابراہیم ؐ کے مذہب (ملت) کی پیروی کریں جو عقیدے کا پکا تھا.اور وہ (ابراہیمؐ) مشرکین میں سے نہ تھا 16:123
=======
=======